ہوناور7/ فروری (ایس او نیوز)آل انڈیا کسان مورچہ کی طرف سے ملک گیر پیمانے پر6فروری کو زرعی قوانین کے خلاف احتجاجی چکّا جام کرنے کی جو اپیل کی گئی تھی اس کی حمایت میں ہوناور تعلقہ کے اپسر گونڈا علاقے میں کسانوں نے نیشنل ہائی وے 66 پر دھرنا دیا۔
یہ احتجاجی مظاہرا کرناٹکا ژون کسان مورچہ کے صدر شانتا رام نائک کی قیادت میں منعقد کیا گیا تھا۔ جس کے تحت کچھ وقفے تک ہائی وے پر دھرنا دے کر ٹریفک روکی گئی اورنعرے بازی کے ساتھ مطالبہ کیا گیا کہ زراعت اور بجلی سے متعلقہ مرکزی حکومت کے تینوں قوانین واپس لیے جائیں۔ شانتا رام نائک نے ان قوانین کو کسان مخالف بتاتے ہوئے کہا حکومت کسانوں کے احتجاج کو نظر انداز کررہی ہے، لیکن اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ہم مزید محتد ہوکر اس احتجاج کو آگے بڑھائیں گے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سی آئی ٹی یو کے ضلع صدر تلک گوڈا نے کہا گزشتہ 70 دن سے کسان احتجاج کر رہے ہیں، لیکن مرکزی حکومت ان کے مطالبات ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اگر قوانین واپس نہیں لیے جاتے تو پھر آنے والے دنوں میں مزید بڑے پیمانے پر مظاہرے ہونگے۔
تھوڑی دیر احتجاج کے بعد پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے مظاہرین کو ہائی وے پر ہٹا دیا اورگاڑیوں کی آمد و رفت بحال کردی گئی۔
اس موقع پر کسان مورچہ کے تعلقہ صدر تمپّا گوڈا انپّا نائک منکی، کنڑا رکھشنا ویدیکے تعلقہ صدر منجو ناتھ گوڈا، کسان مورچہ کے سیکریٹری گنیش بھنڈاری ، چندر کانت کوچریکر، انپّا گوڈا سمیت مختلف تنظیموں اور کسانوں کے لیڈران موجود تھے۔